موضوع: عمران خان حکومت کے مستقبل پر سوالیہ نشان
گزشتہ چند دنوں سے پاکستان سے یہ اشارے مل رہے ہیں کہ ملک کے عوام موجودہ حکومت سے اکتا چکے ہیں۔ان کے تمام خواب چکنا چور ہو چکے ہیں جو انہوں نے عمران خان حکومت کی تشکیل کے بعد د یکھے تھے ۔ نئے پاکستان کا خواب جس کا عمران خان نے وعدہ کیا تھا ،شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔ نیا پاکستان تو کیا اب پاکستان پرانا پاکستان بھی نہیں رہا جیسا کہ وہ گزشتہ حکومتوں کے دور میں تھا۔ ہر طرف بد امنی ہی بد امنی ہے۔مذہبی شدت پسندی کا تو کہنا ہی کیا ۔ وہ تو پاکستانی سماج میں اس قدر سرائت کر چکی ہے کہ اس کے خلاف زبان کھولنے کی کسی کی ہمت نہیں ہے۔اب تو سیاست داں بھی اس طرح کی زبان بولتے ہیں کہ ایسا لگتا ہے کہ کسی مدرسہ کا کوئی مولوی بول رہا ہو۔یہ تو اپنی جگہ، معاشی صورت حال پر نظر ڈالیں تو اس کا اتنا برا حال ہو چکا ہے کہ پوچھئے مت۔ اسی صورت حال سے پریشان ہو کر نہ صرف وہاں کے عوام بلکہ خواص بھی عمران خان حکومت سے نجات چاہتے ہیں لیکن طاقتور حلقہ کو اندیشہ ہے کہ اگر عمران خان حکومت کو رخصت کیا گیا تو ہو سکتا ہے کہ عمران خان اپنا رد عمل دکھائیں اور پشتون علاقہ کے لوگوں سے مل کر مزاحمت کی آواز اٹھائیں۔ یہی اندیشہ ہے جس کے سبب عمران حکومت ابھی تک بر قرار ہے۔ لیکن یہ مفروضہ کہ عمران خان کے ساتھ پشتون لوگ کھڑے ہو جائیں گے، گمراہ کن ہے۔
کسی بھی سیاسی پارٹی کا سب سے بڑا اثاثہ اس کے کارکن ہوتے ہیں لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ عمران خان نے گزشتہ دو برسوں میں وہ سب کچھ کیا جو ان کے کارکنوں کی سوچ سے متصادم تھا۔ اب کارکن دل برداشتہ ہیں۔ان پر نہ کرپشن کا نعرہ کار گر ہے ، نہ ہی مذہبی کارڈ ان پر اثر دکھا رہا ہے اور نہ ملک کے طول و عرض میں تبدیلی کا نعرہ گونج رہا ہے ۔تحریک انصاف پارٹی کے کارکنان پر شدید مایوسی چھائی ہوئی ہے ۔ پی ٹی آئی کے یہ کارکنان ایک بار تو دھوکہ کھا سکتے ہیں لیکن دوسری دفعہ ’’نئے پاکستان‘‘ کا فریب انہیں نہیں دیا جا سکتا۔ یہ بات یاد رکھنا چاہئے کہ کارکن نہ ہوں تو قیادت مذاق بن جاتی ہے۔
عمران خان اپنے تمام تر مخلص ساتھیوں اور پی ٹی آئی کی اصل قیادت کو اپنے آپ سے دور کر چکے ہیں۔اب ان کے پاس بچے ہیں تو شیخ رشید احمد جیسے لوگ جو وزیر ریلوے کا عہدہ سنبھالنے کے باوجود یہ نہیں جانتے کہ ایک وزیر کو ذمہ دارانہ بیان دینا ہوتا ہے ۔ان کا تو یہ حال ہے کہ جب دیکھئے کچھ نہ کچھ اول جلول بول جاتے ہیں۔ابھی حال ہی میں انہوں نے فرمایا کہ پاکستان اپنے نیو کلیائی اسلحے استعمال کر کے بھارت کے ساتھ حتمی لڑائی لڑے گا۔ موصوف کو شاید یہ نہیں معلوم کہ پاکستان سے بہت پہلے بھارت نیو کلیائی ہتھیار حاصل کر چکا تھا لیکن نیو کلیائی جنگ لڑنا بچوں کا کھیل نہیں ۔ جو ممالک کافی پہلے نیو کلیائی طاقت بن چکے ہیں شاید انہوں نے بھی آج تک اس طرح کا بیان نہ دیا ہوگا۔ اس لئے عمران خان سے کسی بھی قسم کی مزاحمت کی توقع عبث ہے ۔ اب ان کا حال یہ ہے کہ اگر وہ ملک کے کسی صوبے میں کوئی جلسہ کریں تو شاید ہی چند لوگ اکٹھا ہوں گے۔ کہا جاتا ہے کہ پٹھان دوستی اور دشمنی میں بہت کھرے لوگ ہوتے ہیں۔ وہ اپنے ساتھ احسان کرنے والوں کو ہمیشہ یاد رکھتے ہیں اور دھوکہ دینے والوں کو بھی کبھی نہیں بھولتے۔ لیکن عمران خان نے پشتون مزاحمت کے ساتھ جو کچھ کیا، جو دھوکہ ان کو دیا اس کے بعد خیبر پختون خوا کے وزراء اپنے حلقوں میں داخل نہیں ہو سکتے تو یہ توقع کرنا کہ وہ لوگ ایک بار پھر عمران خان کا ساتھ دیں گے سوائے حماقت کے کچھ نہیں۔
لوگوں کا خیال ہے کہ اس وقت ملک معاشی بحران سے گزر رہا ہے اور خزانہ خالی ہے ۔ اس لئے ملک نئے انتخابات کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا ۔ لہذا نئے انتخابات کرا کر بھی عمران حکومت کو ہٹایا نہیں جا سکتا۔ لیکن یہ بات صحیح نہیں ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کے چند جمہوریت پسند ممالک میں عین حالت جنگ میں بھی انتخابات ہوئے ہیں۔ یہ اس لئے ہوا کہ جمہوریت میں اگر عوام اپنی قیادت سے خوش نہیں ہیں تو انہیں ہر حال میں اپنی پسند کی قیادت کو منتخب کرنے کا حق ہے ۔
یہ خدشہ بالکل بے معنی ہے کہ عمران خان کا اقتدار ختم ہونے کے بعد ان کا رد عمل کیا ہوگا؟ ایسی بحثوں سے لگتا ہے کہ یہ اندیشہ طاقور حلقوں کے ذہنوں میں تخلیق کیا جا رہا ہے ۔حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستان کے طاقتور حلقوں کو چار بنیادی خدشات ہیں۔ ان کو ڈر ہے نواز شریف کی بیٹی مریم نواز کے جلسوں سے۔ انہیں خوف ہے مولانا فضل الرحمان کے دھرنوں سے۔ انہیں یہ بھی خوف ہے کہ کہیں نواز شریف دوبارہ اقتدار میں نہ آجائیں اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ بد حال عوام کے غیض و غضب سے بھی ڈرتے ہیں۔
آج کل پاکستان کا ماحول ایسا ہے کہ کوئی کھل کر بات نہیں کر سکتا۔ لکھنے والے ادھوری باتوں اور علامتوں کا سہارا لے کر اپنا مدعا بیان کر رہے ہیں۔پاکستانی عوام کا خیال ہے کہ عمران حکومت نے گزشتہ دو برسوں کے دوران جو کچھ بھی کیا ہے اس سے نہیں لگتا کہ وہ دوبارہ اقتدار میں واپس آئے گی۔ اگر وہ باقی ماندہ مدت بھی پوری کرلے تو سمجھئے یہ ایک معجزہ ہے ۔
Comments
Post a Comment